مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک ہم امریکہ کو سزا دینا نہیں چھوڑیں گے، ہمارے میزائل امریکہ کے کثیر سطحی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے خلیج فارس میں اپنی فوجیں جمع کرکے ایران سے ہتھیار ڈالنے کی توقع کی تھی، لیکن اسے ایران کی مختلف نوعیت کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایرانی قوم نے شہداء کی قربانیوں کی بدولت شجاعت اور قومی سلامتی حاصل کی ہے۔
سردار محبی نے مزید کہا کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں اور اب اسے مستقل تزویراتی بازدار قوت میں تبدیل کر رہے ہیں۔
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کا نعرہ بحری جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ بنانا تھا، لیکن حالیہ جنگ میں وہ اسی معاملے میں ناکام رہا۔ دنیا کی سب سے بڑی بحری فوج رکھنے کے باوجود امریکہ آبنائے ہرمز کو چند گھنٹوں کے لیے بھی کھلا رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے آبنائے ہرمز کھلا ہے، لیکن اس کا کنٹرول سپاہ پاسداران کی بحری افواج کے ہاتھ میں ہے۔
جنرل محبی نے مزید کہا کہ جنگ سے پہلے روزانہ درجنوں سے زائد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، لیکن اب صرف ایران کے تجارتی شراکت داروں کا تیل بردار بحری جہاز تہران کی اجازت سے اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ اپنی فوجی ٹیکنالوجی کی برتری کا تاثر پیدا کرنے کے لیے تشہیر کرتا تھا، لیکن حالیہ جنگ میں اس کے جدید فضائی، بحری اور زمینی فوجی سازوسامان کو ایرانی مسلح افواج نے نشانہ بنایا۔
آپ کا تبصرہ